چارسدہ: گرمیوں کے خاتمے اور سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ضلع چارسدہ میں گیس کی شدید لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
نہ صرف گھریلو امور متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
اس مسئلے کے خلاف جماعت اسلامی کے رہنماوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری فواد احمد اور دیگر رہنماوں نے بتایا کہ صبح، دوپہر اور شام کے اوقات میں بھی گیس دستیاب نہیں، حالانکہ حکام نے ان اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے اعلانات کیے تھے۔
رہنماوں نے کہا کہ سردیوں کا سیزن ابھی پوری طرح شروع نہیں ہوا اور گیس کی عدم دستیابی نے عوام کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
خواتین گھریلو کاموں میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں اور کھانا پکانے کے لیے لکڑی جلانے پر مجبور ہیں۔
بچوں کو ناشتے کے بغیر سکول جانا پڑ رہا ہے جبکہ والدین بھی روزگار یا سروس کے لیے بغیر ناشتہ کے گھر سے نکلتے ہیں۔
جماعت اسلامی نے گیس لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے حکام کو تین دن کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔
رہنماوں نے واضح کیا کہ اگر مقررہ مدت میں بہتری نہ آئی تو گیس دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور تبادلے یا لوڈشیڈنگ ختم ہونے تک دھرنا جاری رہے گا۔
رہنماوں نے کہا کہ چارسدہ میں گیس لوڈشیڈنگ نے ایک بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موسم سرماکے لیے گیس لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول، گھریلو صارفین کے لیے اہم خبر
موسمِ سرما کے دوران بڑھتی ہوئی گیس کی طلب اور قلت کے پیشِ نظر سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) نے گھریلو صارفین کے لیے 2025 کا نیا لوڈشیڈنگ شیڈول جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق گھریلو صارفین کو دن کے صرف مخصوص اوقات میں گیس فراہم کی جائے گی۔
صبح 5:30 سے 8:30 بجے، دوپہر 11:30 سے 1:30 بجے اور شام 5:30 سے 8:30 بجے تک گیس دستیاب ہوگی۔ ان اوقات کے علاوہ گیس پریشر میں کمی یا سپلائی کی بندش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
یہ شیڈول لاہور، اسلام آباد سمیت سوئی نادرن کے تمام ریجنز میں نافذ العمل ہوگا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ شہری اور دیہی علاقوں میں محدود گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھریلو امور، بالخصوص کھانا پکانے اور ہیٹنگ کے اوقات، اس شیڈول کے مطابق ترتیب دیں تاکہ مشکلات سے بچا جا سکے۔





