استنبول میں پاک افغان مذاکرات، پاکستان نے پھر سخت مؤقف دہرا دیا

ترکی اور قطر کی ثالثی میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور استنبول میں مکمل ہو گیا۔

یہ مذاکرات دو روز تک 6 اور 7 نومبر کو جاری رہے جن میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر سخت تشویش ظاہر کی۔

اسلام آباد نے واضح مؤقف اپناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پر موجود پاکستانی دہشت گردوں کو واپس کیا جائے تاکہ سرحد پار حملوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

افغان طالبان کے نمائندوں نے دہشت گردی کے مسئلے کو انسانی یا پناہ گزینوں کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی تاہم پاکستانی وفد نے اس مؤقف کو غیر متعلقہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو سلامتی کے دائرے میں ہی دیکھا جانا چاہیے۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کے اختتام پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی تیسری نشست 7 نومبر کو استنبول میں مکمل ہوئی، پاکستان، افغانستان سے ہونے والے حملے روکنے کے لیے دونوں برادر ممالک کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگست 2021 میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان نے گزشتہ چار برس کے دوران جانی و مالی نقصانات کے باوجود انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان حکومت وقت کے ساتھ سرحدی علاقوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کرے گی اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں (بی ایل اے) کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے گی، مگر اب تک اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار سے ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، پاک افغان کشیدگی میں کمی کیلئے تعاون کی پیشکش

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت اور عوام دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد ہیں۔ ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ریاستِ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے دہشت گردی کے خلاف کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مذاکرات کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ترکی اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا اگلا دور دوحہ میں منعقد کیا جا سکتا ہے، تاکہ سرحد پار سلامتی کے معاملات پر پیش رفت کو جاری رکھا جا سکے۔

Scroll to Top