آئندہ دنوں میں دہشت گرد نئے شہروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں: لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید

اسلام آباد: سابق چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد سعید نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں دہشت گرد مزید شہروں میں کارروائیوں کی کوشش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ وانا اور اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور قیادت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ افغانستان کے ساتھ نرمی اختیار کی جائے، تاہم ایسا نہیں ہوگا۔

ادھر دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) احمد سعید منہاس نے وانا اور اسلام آباد میں دہشت گردانہ واقعات کو بھارت اور افغان طالبان کے مشترکہ اقدامات کا نتیجہ قرار دیا۔

ماہر قومی سلامتی سید محمد علی کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت بہار کے انتخابات پر اثر ڈالنے کے لیے دہشت گردانہ کارروائیوں کو استعمال کر رہی ہے، اور افغان طالبان نے بھارت کی خوشنودی کے لیے پاکستان کے احسانات کو فراموش کر دیا ہے۔

میجر جنرل (ر) زاہد محمود نے کہا کہ بھارت کی داخلی سیاست اور افغان گروہوں کے باہمی اختلافات بھی دہشت گردی کے عوامل ہیں، تاہم پاکستان بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف متفق: امن دشمنوں کے خلاف کارروائیاں بلاوقفہ جاری رہیں گی

دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ پاکستان کو عالمِ اسلام میں یہ پیغام دینا چاہیے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ آج پاکستان ہدف ہے، اور کل یہ خطرہ کسی اور ملک کے لیے بھی ہو سکتا ہے۔

بریگیڈیئر (ر) راشد ولی نے بھارت کے جنگی رویے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کنٹرول تب تک ممکن نہیں جب تک وہاں حکومت میں تبدیلی نہیں آتی، جبکہ بریگیڈیئر (ر) وقار حسن نے خیبر پختونخواہ حکومت سے واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ کس کے ساتھ ہے اور کس جانب اس کی بندوقیں ہیں۔

Scroll to Top