خیبرپختونخوا میں 12 سالہ بدعنوانی کا فرانزک آڈٹ شروع کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا میں 12 سالہ بدعنوانی کی کھوج: صوبائی حکومت کا بڑے پیمانے پر فرانزک آڈٹ کرانے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں گزشتہ 12 سال کے دوران ہونے والی مبینہ بدعنوانی، جعلی ادائیگیوں اور غیر قانونی لین دین کی جامع چھان بین کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل سمیت مختلف محکموں میں سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں کے بعد کیا گیا ہے، جنہوں نے حکومتی سطح پر تشویش پیدا کر دی تھی۔

12 سالہ فرانزک آڈٹ 2013سے 2024 تک کی جانچ پڑتال

سرکاری دستاویزات کے مطابق صوبے بھر میں 2013 سے 2024 تک تمام محکموں میں ہونے والی سرکاری ادائیگیوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ:

کتنی جعلی ادائیگیاں ہوئیں؟
کتنی غیر قانونی یا قواعد کے خلاف ادائیگیاں کی گئیں؟
کن محکموں میں سب سے زیادہ مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں؟
نجی فرم کو آڈٹ کی ذمہ داری 4 کروڑ 85 لاکھ روپے کی منظوری

محکمہ خزانہ نے تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے ایک نجی فرم کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے اس کام کے بدلے 4 کروڑ 85 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ کا انتخاب مکمل طور پر قانون کے مطابق کیا گیا ہے اور فرم کو سخت شرائط کے تحت کام کرنا ہوگا، جن میں شامل ہیں:
بروقت رپورٹ جمع کرانا لازم
غفلت یا تاخیر پر جرمانہ
غلطیوں یا بدانتظامی پر پابندی عائد کرنے کا اختیار

مرحلہ وار آڈٹ ہر ڈویژن کی الگ رپورٹ
فرانزک آڈٹ مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ دنیا نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق:
پہلا مرحلہ: پشاور ڈویژن
دوسرا مرحلہ: ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژنز
تیسرا مرحلہ: کوہاٹ اور بنوں ڈویژنز

فرم ہر مرحلے کی الگ رپورٹ فراہم کرے گی، جس کا مقصد بدعنوانی کے پورے نیٹ ورک کی شفاف انداز میں نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت کا بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن قدم
محکمہ خزانہ کے مطابق یہ اقدام صوبے کے مالیاتی نظام میں شفافیت لانے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آڈٹ نہ صرف سابقہ حکومتی ادوار کی مالیاتی صورتحال کو واضح کرے گا بلکہ مستقبل میں شفاف طرز حکمرانی اور مالی نظم و ضبط کے لیے بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

Scroll to Top