سپریم کورٹ نے آئینی عدالت کو 22 ہزار سے زائد مقدمات منتقل کردیئے

وفاقی آئینی عدالت کو 22 ہزار سے زائد مقدمات منتقل، آرٹیکل 184/3 اور 199 کے کیسز شامل، عدالتی بوجھ میں اضافہ، اور یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین کے برطرفی کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کو مقدمات کی منتقلی کا عمل تیز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد مقدمات آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات اور نظرثانی درخواستیں شامل ہیں، جبکہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں بھی آئینی عدالت کو منتقل کر دی گئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت کو منتقل ہونے والے مقدمات کی مجموعی تعداد ممکنہ طور پر 25 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ سپریم کورٹ میں اس وقت 56 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جس سے عدالتی بوجھ کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں سماعت، یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین کی سقبل ازیں، وفاقی آئینی عدالت میں جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں یوٹیلیٹی کارپوریشن ملازمین کے برطرفی کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے برطرف سیل مین مزمل رفیق کو تیاری کے لیے وقت دیا۔

دوران سماعت، جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں۔درخواست گزار مزمل رفیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہیں عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل واپس لینے کی ہدایت دی تھی، اور اس دوران تقریباً 12 ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا گیا۔

جسٹس حسن رضوی نے کہا12 ہزار ملازمین کی نہیں، آپ اپنی بات کریں۔ آپ وفاقی عدالت میں ڈائریکٹ درخواست کیسے دائر کر سکتے ہیں؟ کسی وکیل سے مشورہ کر لیں۔ 27 ویں آئینی ترمیم کو آئندہ سماعت پر پڑھ کر آئیں۔ یوٹیلیٹی سٹورز سے کروڑوں کا نقصان ہوا ہے اور سٹاف کی جانب سے خردبرد پکڑی گئی۔

عدالت نے مزید کہاکیا یہ حکومت کے کرنے کے کام ہیں؟ یوٹیلیٹی سٹورز سے عوام نے نہیں بلکہ سٹاف نے فائدہ اٹھایا۔آخرکار، جسٹس حسن رضوی نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقدمات کی بڑی تعداد آئینی عدالت کو منتقل کرنا عدالتی نظام میں توازن برقرار رکھنے اور مقدمات کی بروقت سماعت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام سے آئینی عدالت پر دباؤ تو بڑھ سکتا ہے، لیکن عدالتی کارروائی کے معیار اور فیصلہ سازی کی شفافیت کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں :  کرم میں خفیہ اطلاعات پر کارروائی، مناتو و مرزائی میں 22 دہشت گرد ہلاک

Scroll to Top