دہی ایک مفید اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہے، لیکن دیگر تمام غذاؤں کی طرح اس کا زیادہ یا غلط وقت پر استعمال بعض افراد میں مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
ایک غیر ملکی ویب سائٹ نے دہی کے ممکنہ نقصانات پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ دہی بعض حالات میں ہاضمے، سانس اور وزن پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دہی عام طور پر ہاضمے کے لیے اچھی سمجھی جاتی ہے، لیکن وہ لوگ جنہیں لیکٹوز ہضم کرنے میں دشواری ہو، کمزور معدہ رکھتے ہوں یا آنتوں کی بیماری میں مبتلا ہوں، وہ اس کے زیادہ استعمال سے پیٹ میں گیس، اپھارہ اور بھاری پن جیسے مسائل محسوس کر سکتے ہیں۔ دہی کی زیادہ مقدار بعض اوقات آنتوں کے توازن کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہی جسم میں نمی اور بلغم میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے ایسے افراد جو دمہ، الرجی، بار بار نزلہ زکام یا سینے کی بندش جیسے مسائل سے گزرتے ہیں، وہ رات کے وقت ٹھنڈی دہی کھانے کے بعد علامات میں اضافہ محسوس کر سکتے ہیں۔
اگرچہ دہی پروٹین کی وجہ سے وزن میں کمی کے لیے مفید مانی جاتی ہے، لیکن بازار میں دستیاب زیادہ چکنائی والی یا میٹھی دہی بہت زیادہ کیلوریز پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس قسم کی دہی کا روزانہ اور زیادہ مقدار میں استعمال وزن بڑھانے اور کولیسٹرول میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
مضمون میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ دہی چونکہ قدرتی طور پر تیزابی خاصیت رکھتی ہے، اس لیے ایسے افراد جنہیں جوڑوں کی سوزش یا آرتھرائٹس ہو، زیادہ دہی کھانے سے درد یا سختی میں اضافہ محسوس کر سکتے ہیں۔ بعض آراء کے مطابق دہی کی تیزابیت جسم میں موجود فاضل مادّوں کے جمع ہونے کے عمل کو تیز کرتی ہے، جو کہ تکلیف بڑھا سکتی ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ دہی ہمیشہ اعتدال میں رہ کر کھائی جائے اور بہتر ہے کہ اسے دن کے وقت استعمال کیا جائے، خاص طور پر دوپہر کے کھانے کے ساتھ کیونکہ اس وقت نظام ہاضمہ بہتر طور پر کام کرتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی آگاہی کے لیے ہے اور کسی بھی طبی مسئلے کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔





