پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست جیل حکام کو ارسال، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کل اڈیالہ جیل پہنچیں گے۔
جیل حکام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ہمراہ پانچ اہم شخصیات بھی عمران خان سے ملاقات کریں گی۔ ان افراد کی فہرست سلمان اکرم راجا نے جیل انتظامیہ کو بھیج دی ہے۔
فہرست کے مطابق مینا خان آفریدی، شاہد خٹک، ریاض خان، خلیق الرحمان اور تاج محمد بھی عمران خان سے ملاقات کریں گے۔
گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا تھا۔ علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے دوپہر دو بجے کے قریب احتجاج شروع کیا، تاہم مذاکرات ناکام ہونے پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔
پولیس نے تینوں بہنوں کو حراست میں لیا مگر کچھ دیر بعد انہیں چکری انٹرچینج پر رہا کر دیا، جس کے بعد وہ لاہور روانہ ہوگئیں۔ کارروائی کے دوران دھکم پیل اور بدنظمی بھی سامنے آئی، جبکہ نورین نیازی زمین پر گرنے سے زخمی ہوئیں۔
اس دوران متعدد کارکنان کے ساتھ ساتھ رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک اور صوبائی وزیر مینا آفریدی کو بھی حراست میں لیا گیا ۔
یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں رکاوٹ، سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات میں بار بار رکاوٹیں ڈالے جانے اور عدالتی احکامات پر عمل نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان کو طویل عرصے سے قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جبکہ منگل اور جمعرات کو طے شدہ ملاقاتوں کے دن بھی انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، جو کہ بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملاقاتوں سے متعلق احکامات کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے توہین عدالت کی مختلف درخواستیں فائل ہونے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہونا عدالتی عمل پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
پارٹی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ شہری آزادیوں، عدلیہ کے احترام اور آئینی حکمرانی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے عمران خان کی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کے حق میں حائل رکاوٹوں کو ’’غیر آئینی اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔
پارٹی نے اعلیٰ عدلیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لے اور ملاقات کے آئینی حق کو یقینی بناتے ہوئے اس معاملے پر جلد فیصلہ دے۔ اس کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے اپنے چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی کارکنان کی فوری اور غیر
مشروط رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔





