شہزاد نوید
سوات: سوات کے علاقے شاہدرہ وتکے میں عوامی شکایات کے بعد پولیس نے علاقے کے عمائدین کے ہمراہ خواجہ سراؤں کے مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے اڈوں کے خلاف کارروائی کی، جس دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد تین خواجہ سرا گرفتار کر لیے گئے۔ واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
پولیس کے مطابق سرکل سٹی پولیس اور علاقہ معززین فحاشی کے خلاف گشت کر رہے تھے کہ شاہدرہ وتکے میں خواجہ سراؤں کی رہائشی عمارت سے پولیس پارٹی اور مقامی افراد پر فائرنگ کی گئی۔
فائرنگ کی آوازوں سے علاقے میں بدامنی کی صورتحال پیدا ہوگئی جس پر پولیس نے فوری جوابی کارروائی کی۔
ترجمان سوات پولیس معین فیاض کے مطابق ایڈیشنل ایس پی لوئر سوات غلام صادق کی نگرانی میں کیے گئے آپریشن میں تین خواجہ سرا—آصف عرف بلبل، عمران عرف پائل اور آرمان—کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوئی۔ ملزمان کے خلاف تھانہ بنڑ میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
آپریشن میں ڈی ایس پی سرکل سٹی بخت زادہ، ایس ایچ او بنڑ، رحیم آباد، مینگورہ اور مختلف پولیس یونٹس کے جوانوں نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں : 9 مہینوں میں لاکھوں پاکستانیوں کی دبئی آمد، ائیرپورٹ حکام نے اعداد و شمار جاری کر دیے
کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں خواجہ سرا اور گاہک موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
علاقے کے عمائدین نے مطالبہ کیا ہے کہ خواجہ سراؤں کو کرائے پر جگہیں فراہم کرنے والے مکان مالکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے تاکہ علاقے میں بڑھتی ہوئی سماجی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔





