واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک امن معاہدے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں تھینکس گیونگ کی تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ روس-یوکرین جنگ میں ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں، تاہم اب جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے امن معاہدے پر غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 9 ماہ کے دوران 8 جنگیں روکی ہیں اور اب ایک اور جنگ کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے حوالے سے اب صرف چند اختلافی نکات باقی رہ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ کچھ نازک نکات پر مزید بات چیت درکار ہوگی۔
چند روز قبل امریکی اور یوکرینی حکام نے جنیوا میں 28 نکاتی امریکی امن تجویز پر مذاکرات کیے، جس کے بعد دونوں ممالک نے نئے فریم ورک پر کام کرنے کا اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ہے، تاکہ ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : یوکرینی صدر کا ٹرمپ کے امن منصوبے پر رد عمل: تعاون کے لیے تیار ہیں
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا روس سے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی امن منصوبے پر رد عمل سامنے آگیا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک بیان میں واضح کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔
ولادیمیر زیلنسکی نے کہاکہ ٹرمپ کے امن منصوبے میں چند اختلافی نکات پر امریکا اور یورپی اتحادیوں سے بات چیت ہوگی۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق صدر زیلنسکی نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں ری ایشورنس فورس تعینات کرنے کے لیے ایک واضح فریم ورک تیار کریں۔
زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اس وقت تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنی چاہیے جب تک ماسکو جنگ ختم کرنے کی کوئی حقیقی خواہش ظاہر نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنےکے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔
روس نے بھی یوکرین سے جنگ بندی کے لیے امریکی امن منصوبے کی حمایت کر رکھی ہے، صدر پیوٹن خبردار کر چکے ہیں کہ یوکرین کی جانب سے معاہدے کو مسترد کیے جانے کی صورت میں وہ مزید علاقوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔





