کیف: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کے امن منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
صدر زیلنسکی نے کہا کہ امن منصوبے میں چند اختلافی نکات پر امریکا اور یورپی اتحادیوں سے بات چیت کی جائے گی تاکہ ایک قابل عمل فریم ورک تیار کیا جا سکے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق انہوں نے یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ یوکرین میں ری ایشورنس فورس کی تعیناتی کے لیے واضح منصوبہ بندی کریں۔
ولادیمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ یورپ کو اس وقت تک یوکرین کی حمایت جاری رکھنی چاہیے جب تک ماسکو جانب سے جنگ ختم کرنے کی حقیقی خواہش ظاہر نہیں کرتا۔
دوسری جانب روس نے بھی امریکی امن منصوبے کی حمایت کی ہے، جبکہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین معاہدے کو مسترد کرتا ہے تو وہ مزید علاقوں پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو امن معاہدہ قبول کرنے کے لیے 27 نومبر کی ڈیڈ لائن بھی دے رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کی امید، ٹرمپ نے بتائی پیش رفت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی انتظامیہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک امن معاہدے کے قریب پہنچ گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں تھینکس گیونگ کی تقریب سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ روس-یوکرین جنگ میں ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں، تاہم اب جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے امن معاہدے پر غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے 9 ماہ کے دوران 8 جنگیں روکی ہیں اور اب ایک اور جنگ کے خاتمے پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کو ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہدایت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے حوالے سے اب صرف چند اختلافی نکات باقی رہ گئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ کچھ نازک نکات پر مزید بات چیت درکار ہوگی۔
چند روز قبل امریکی اور یوکرینی حکام نے جنیوا میں 28 نکاتی امریکی امن تجویز پر مذاکرات کیے، جس کے بعد دونوں ممالک نے نئے فریم ورک پر کام کرنے کا اعلان کیا۔





