آکسفورڈ یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے زیرِ اہتمام پاک بھارت مباحثے میں بھارتی ٹیم کے دستبردار ہونے کے بعد پاکستان کو بلامقابلہ کامیابی حاصل ہوگئی۔
مباحثے کا موضوع تھا کہ کیا بھارت کی پاکستان پالیسی واقعی قومی سلامتی ہے یا صرف عوامی جذبات بھڑکانے کا نعرہ ہے؟
پاکستانی طلبہ کی ٹیم نے صدرِ یونین موسیٰ ہراج کی قیادت میں سابق صدور احمد نواز اور اسرار کاکڑ کے ہمراہ موضوع پر اپنے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کیا۔
یونیورسٹی میں بھارتی طلبا کی بڑی تعداد کے باوجود ووٹنگ میں پاکستانی ٹیم کو 106 ووٹ جبکہ بھارتی ٹیم کو صرف 50 ووٹ ملے۔
مباحثے کے دوران پاکستانی مقررین نے دلائل کے ساتھ نکات پیش کیے جبکہ بھارتی طلبا سوالات کے موثر جوابات دینے میں ناکام رہے۔
پاکستان ہائی کمیشن کے مطابق بھارت کی جانب سے چند غیر معروف اور کم درجے کے مقررین کی پیشکش کی گئی جو پاکستانی وفد کے معیار کے مطابق نہیں تھی، جس کے باعث بھارتی ٹیم نے باضابطہ شرکت سے انکار کیا۔
ہائی کمیشن نے کہا کہ بھارتی رہنما میڈیا پر تو شور مچاتے ہیں مگر علمی، دلیل پر مبنی فورم پر جواب دینے سے گھبراتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی نیول کمانڈر نے پاک بھارت جنگ میں بھارتی طیارے گرنے کی تصدیق کر دی
تقریب کے دوران سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ریٹائرڈ زبیر محمود حیات، سابق وزیر مملکت حناربانی کھر اور سابق ترجمان دفترِ خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل بھی موجود تھے۔
پاکستانی وفد کے مطابق بھارتی دستبرداری نے آکسفورڈ جیسے غیر جانبدار فورم پر بھارتی بیانیے کو مزید کمزور کرکے بے نقاب کردیا۔





