پشاور :پشاور ہائیکورٹ نے غیر قانونی اجتماعات سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے سرکاری اداروں اور تعلیمی مراکز کے قریب سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سرکاری عمارتوں اور اداروں کے احاطوں میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمی یا اجتماع کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ان اداروں کا قیام مخصوص مقاصد کے لیے کیا گیا ہے، اس لیے ان جگہوں کا سیاسی استعمال روکنا متعلقہ افسران کی ذمہ داری ہے۔
تحریری فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ غیر متعلقہ اجتماعات نہ صرف اداروں کے تقدس کو مجروح کرتے ہیں بلکہ سرکاری امور میں رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں۔
عدالت نے تعلیمی اداروں سمیت تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے احاطوں میں غیر متعلقہ اجتماعات کی روک تھام یقینی بنائیں۔
پانچ صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے جاری کیا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے، اور خیبرپختونخوا میں غیر قانونی اجتماعات کے باعث سرکاری کام اور تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دفعہ 144نافذ،جلسے ،جلوس اور احتجاج پر پابندی عائد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے جلسے، جلوس یا احتجاج پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد شہریوں کی حفاظت اور امن و امان قائم رکھنا ہے۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ضلعی انتظامیہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے انعقاد پر فوری قانونی کارروائی کرے گی اور قانون کے مطابق سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں حصہ نہ لیں اور قانون کی مکمل پابندی کریں تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔





