سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی افغان مقیموں کی ملک بدری روکنے کی درخواست مسترد کر دی، قانونی اور سفارتی راستے ہی رہ گئے
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے غیر قانونی مقیم افغانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کی ملک بدری سے متعلق حکومتی اقدامات پر عملدرآمد روکنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے استدعا پر سوال اٹھایا کہ حکومت کو غیر ملکیوں کی ملک بدری سے کیسے روکا جا سکتا ہے اور کہا کہ یہ معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ افراد 45 سال قبل تبلیغ کے مقاصد کے لیے پاکستان آئے تھے اور وہ اپنی رہائش کے لیے مقامی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ تاہم عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزاروں کے پاس کوئی سرکاری یا قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں جو ان کی قانونی حیثیت کو ثابت کر سکیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ ایسے معاملات میں عدالت محدود اختیارات رکھتی ہے اور درخواست گزار قونصلیٹ یا اپنے سفارتخانے سے رجوع کر سکتے ہیں تاکہ قانونی اور سفارتی طریقہ کار کے ذریعے اپنی صورتحال بہتر بنا سکیں۔
سندھ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ حکومت کو غیر ملکیوں کی ملک بدری کے عمل پر مکمل اختیار دیتا ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے لیے قانونی اور سفارتی راستے ہی دستیاب رہ گئے ہیں۔ سیاسی اور انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی قانونی حیثیت اور ملک بدری کے عمل پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔





