صوبائی جنرل سیکریٹری ملگری ڈاکٹران پختونخواڈاکٹر محمد شہزاد نے صوبے کے سرکاری صحت کے نظام میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے عوام کی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اپنے جاری بیان میں ڈاکٹر محمد شہزاد نے کہا کہ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات کی مسلسل عدم دستیابی، آکسیجن جیسی لازمی ضروریات کی قلت، اور قابل ڈاکٹروں کی کمی نے نظامِ صحت کو مکمل تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال محض حادثاتی نہیں بلکہ حکومت کی طویل مدتی منصوبہ بندی سے گریز، قلیل المدتی سوچ اور سیاسی مصلحتوں پر مبنی فیصلوں کا لازمی نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں اضافہ،این آئی ایچ کی ایڈوائزری جاری
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آج تک یہ سمجھنے سے قاصر رہی ہے کہ صحتِ عامہ کا بحران عارضی اور موسمی اقدامات سے حل نہیں ہو سکتا۔ آج کی مشکل کو وقتی طور پر ٹالنے کی یہ پالیسی نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ عوام کے ساتھ صریح خیانت ہے۔ جب تک capacity building پر توجہ نہیں دی جائے گی، جب تک باصلاحیت اور تربیت یافتہ عملے کو مستقل بنیادوں پر بھرتی نہیں کیا جائے گا، جب تک انہیں مناسب تنخواہوں، جاب سیکیورٹی اور باقاعدہ تربیتی مواقع فراہم نہیں کیے جائیں گے، یہ نظام مسلسل انحطاط کا شکار رہے گا۔
صوبائی جنرل سیکریٹری ملگری ڈاکٹران نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک دل خراش واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شبقدر کے ایک سرکاری ہسپتال میں محض آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک معصوم بچی کو پشاور ریفر کرنا پڑا۔ تاہم پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں بھی نہ آکسیجن میسر تھی، نہ مناسب ایڈمیشن پوائنٹ موجود تھا اور نہ ہی آئی سی یو کی سہولت دستیاب تھی۔ یہ واقعہ پچھلے 12 سالوں سے جاری پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی حکومت کی انتہائی غفلت اور لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ قابلِ قبول ہے کہ ایک صوبے کے دارالحکومت میں ایمرجنسی کیسز کے لیے بنیادی سہولیات موجود نہ ہوں ؟؟ کیا پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی حکومت کو یہ احساس بھی ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں؟ کیا سیاسی نعرے بازی اور جلسوں سے زیادہ اہم عوام کی جانیں نہیں؟
صوبائی جنرل سیکریٹری نے پرزور مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت فوری طور پر اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے سے باز آئے اور عوامی صحت کو ترجیح دے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جامع، واضح اور قابلِ عمل منصوبہ تشکیل دیا جائے جس میں عوامی نمائندوں اور ڈاکٹرز کمیونٹی کو شامل کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی تکرار سے بچا جا سکے۔
ڈاکٹر شہزاد نے پوری ڈاکٹر کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ اپنے اداروں کی بقا اور مریضوں کی بہتری کے لیے آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہ ادارے اپنی اگلی نسل کے لیے محفوظ رکھنے کے ذمہ دار ہیں اور ہم ہر اُس غفلت، کوتاہی اور ناانصافی کی واضح نشاندہی کریں گے جو ان اداروں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے فیصلہ کن اقدامات کا۔ مزید تاخیر جان لیوا ثابت ہو گی۔ صوبائی حکومت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات کا از سرِ نو تعین کرنا ہو گا ورنہ تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔





