شمالی وزیرستان میں بویہ قلعہ پر دہشت گردوں کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے اور اس کے بعد زمینی دراندازی کی کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بناتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ایک ڈمپر کے ذریعے خودکش دھماکہ کیا جس کا مقصد قلعے کی دیوار کو نقصان پہنچا کر اندر داخل ہونا تھا۔
حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد چار دہشت گردوں نے قلعے میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں بیرونی باڑ کے قریب ہی ہلاک کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران مجموعی طور پر پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دھماکے کے نتیجے میں صرف بیرونی دیوار کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے، تاہم اندرونی دیوار کو عبور کرنے میں ناکام رہے۔ 64 فرنٹیئر فورس کی مؤثر مزاحمت اور مسلسل کارروائی کے باعث صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں لے لیا گیا۔
ابتدائی خودکش دھماکے کے نتیجے میں ملبہ گرنے سے سیکیورٹی فورسز کے چار جوان شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والے اہلکاروں میں دو کا تعلق 153 میڈیم آرٹلری اور دو کا تعلق 66 میڈیم بٹالین سے تھا، جو اس وقت 64 فرنٹیئر فورس کے ساتھ تعینات تھے۔حملے کے باعث تقریباً 65 سے 70 میٹر تک بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے میں پلٹن اور ہیسکو بیگز پہنچا دیے، جبکہ متاثرہ حصے کی مرمت کا کام بھی جاری ہے تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو مکمل طور پر بحال کیا جا سکے۔
کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا، جس میں تین سب مشین گنز شامل ہیں جن میں سے دو خراب حالت میں تھیں، ایک سب مشین گن بمعہ انڈر بیرل گرینیڈ لانچر، ایک آر پی جی سیون بمعہ راکٹ جس کا فیوز خراب تھا، چھ دستی بم، دو مواصلاتی آلات، گیارہ میگزین اور پانچ بندولیرز شامل ہیں۔





