دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں استحکام، غیر معمولی کمی کے بعد صورتحال معمول پرآگئی

دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں حالیہ غیر معمولی کمی کے بعد صورتحال میں نمایاں بہتری آ گئی ہے اور دریا کا بہاؤ دوبارہ گزشتہ دس برسوں کی معمول کی حد میں داخل ہو چکا ہے۔

وزارتِ آبی وسائل کے تحت دفترِ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق دریائے چناب کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور حاصل ہونے والا ڈیٹا باقاعدگی سے دفترِ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کو فراہم کیا جاتا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2025 کے پہلے نصف میں، خصوصاً 10 سے 16 دسمبر کے دوران، دریائے چناب کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے دوران کم ترین بہاؤ 870 کیوسک تک گر گیا۔

یہ مقدار اسی مدت کے دوران گزشتہ دس برسوں کے کم از کم بہاؤ، جو 4,018 سے 4,406 کیوسک کے درمیان رہا، کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔

پریس ریلیز کے مطابق اس غیر معمولی کمی کی وجوہات جانچنے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا گیا جن سے معلوم ہوتا ہے کہ 8 دسمبر 2025 کو بگلیہار ریزروائر کی سطح میں واضح کمی آئی، جبکہ 13 دسمبر تک اس میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔ اس صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بگلیہار ریزروائر کو خالی کرنے کے بعد دوبارہ بھرا گیا۔

دفترِ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں پر قائم رَن آف دی ریور پن بجلی منصوبوں کے ریزروائرز کو ڈیڈ اسٹوریج تک خالی نہیں کر سکتا۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے کمشنر برائے سندھ طاس نے اس معاملے کو باضابطہ طور پر بھارتی کمشنر برائے سندھ طاس کے ساتھ اٹھایا ہے اور دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی کمی سے متعلق تفصیلات اور متعلقہ ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دفتر پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کے مطابق 17 دسمبر سے دریائے چناب کے بہاؤ میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی اور صبح سات بجے بہاؤ 6,399 کیوسک تک پہنچ گیا جو پہلی مرتبہ وسطِ دسمبر میں آنے والی کمی کے بعد گزشتہ دس برسوں کی تاریخی حد میں شامل ہوا۔

19 دسمبر کو ریکارڈ کیے گئے بہاؤ جو 4,505 سے 6,494 کیوسک کے درمیان رہے بھی اس وقت کے تاریخی اعداد و شمار سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دریائے چناب کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی غیر معمولی صورتحال پر بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر دفترِ پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس کے علاوہ کسی اور ذریعے سے فراہم کی جانے والی معلومات کو مستند تصور نہیں کیا جائے گا۔

Scroll to Top