پشاور ناردرن بائی پاس کی تاخیر ختم! 3.9 ارب روپے کی منظوری، کونسے اہم پل اور انڈر پاسز بنیں گے؟ جانیے

پشاور ناردرن بائی پاس کی تاخیر ختم! 3.9 ارب روپے کی منظوری، کونسے اہم پل اور انڈر پاسز بنیں گے؟ جانیے

پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لیے 3.9 ارب روپے کی منظوری، عوامی سہولیات جلد میسر آنے کا امکان

خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ناردرن بائی پاس منصوبے کی تکمیل کے لیے 3.9 ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں عمل میں آئی، جس میں منصوبے کی موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیر تعمیر ناردرن بائی پاس کی تکمیل کے لیے 3.9 ارب روپے بطور بریج فنانسنگ فراہم کیے جائیں گے، جبکہ منصوبے پر دو اہم انڈر پاسز اور ایک پل کی تعمیر کے لیے ایک ارب روپے صوبائی حکومت کی جانب سے فراہم کیے جائیں گے۔ این ایچ اے حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ جون 2026 تک مکمل ہو جائے گا۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ناکافی فنڈنگ کی وجہ سے یہ منصوبہ 2010 سے مکمل نہ ہو سکا، اور وفاقی سطح پر تاخیر کے باعث خیبرپختونخوا کے کئی ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ عوامی مفاد کا منصوبہ ہے اور صوبائی حکومت منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات میں اضافہ ہوگا بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

اجلاس میں منصوبے کی اب تک کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ منصوبے پر اب تک 23.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، اور مجموعی فنانشل پراگریس 85.6 فیصد ہے۔ پیکج ون کی فزیکل پراگریس 100 فیصد، پیکج ٹو کی 64 فیصد، پیکج تھری کی 86.6 فیصد، اور پیکج تھری اے کی 69 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔

اجلاس میں مشیر خزانہ مزمل اسلم، ممبر نیشنل ہائی ویز، کمشنر پشاور اور متعلقہ صوبائی محکموں کے حکام بھی شریک تھے۔

یہ فیصلہ پشاور میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور تجارتی راستوں کو فعال کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور عوام توقع کر رہے ہیں کہ منصوبے کی مکمل تکمیل سے شہر کے بنیادی انفراسٹرکچر میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔

Scroll to Top