سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک خبر زیر گردش رہی کہ تحریک انصاف کے ایم این اے اقبال آفریدی کے صاحبزادے نے اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کی ہے اور انہیں انسانی سمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے الزامات کا سامنا ہے۔ تاہم، اس خبر کی تصدیق کے لیے ہم نے اقبال آفریدی سے رابطہ کیا اور ان کے موقف کو جاننے کی کوشش کی۔
ایم این اے اقبال آفریدی نے وضاحت کی کہ ان کے دو بیٹے اٹلی میں ہیں اور وہاں محض کام کر کے اپنی تعلیم اور روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے بیٹے غربت اور محدود وسائل کی وجہ سے اٹلی گئے، اور وہاں جانے کے لیے انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے قرض لیا، جس کی واپسی کے لیے اقبال آفریدی خود ذمہ داری لے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان نے کبھی بھی کرپشن نہیں کی اور ایم این اے کے عہدے کا کسی پر ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اقبال آفریدی نے بتایا کہ ان کے بیٹے یہاں گریجویٹ ہیں اور مختلف جگہوں پر ملازمت کے لیے درخواست دی، لیکن کسی نے انہیں نوکری نہیں دی۔
ایم این اے اقبال آفریدی نے مزید بتایا کہ جب ان کے بیٹے نے کسی سرکاری ٹیسٹ میں کامیابی حاصل کی، تو انہوں نے خود درخواست دی کہ اگر وہ کامیاب بھی ہو جائیں تو انہیں سلیکٹ نہ کیا جائے، تاکہ لوگ نہ کہیں کہ ان کے والد نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا۔
انہوں نے کہا: “میرے بیٹے انسانی سمگلنگ یا منشیات میں ملوث نہیں ہیں، اور جو بھی لوگ یہ الزامات لگا رہے ہیں، ان کی پرواہ نہیں۔ میرے بیٹے غربت اور معاشی حالات کی وجہ سے اٹلی گئے ہیں اور وہاں ہوٹل میں محنت کر کے اپنا روزگار کر رہے ہیں۔”
ایم این اے نے عوام سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر بھروسہ نہ کریں اور حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے سرگرم ہیں اور کسی بھی ذاتی مفاد کے لیے اپنے عہدے کا استعمال نہیں کرتے۔





