وفاقی وزیر برائے امورکشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت 13 سالہ اقتدار کے باوجود عوام کو کوئی قابلِ ذکر ریلیف یا ترقی نہیں دے سکی۔
مالاکنڈ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے اربوں روپے عوامی فلاح، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات پر خرچ ہونے کے بجائے ایک مخصوص سیاسی اور ملک دشمن بیانیے کو تقویت دینے میں استعمال کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں جبکہ حکومت صرف نعروں اور الزامات کی سیاست کرتی رہی۔
وفاقی وزیر نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات پر ذمہ داران کو قوم سے معافی مانگنی چاہیے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز سیاست فوری طور پر ترک کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔
امیر مقام نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب ایک بڑی مثبت تبدیلی کی فضا بن رہی ہے اور عوام باشعور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے کے عوام نے 13 سال میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کو دیکھ لیا ہے اور اب وہ حقیقی ترقی اور عوامی خدمت کی سیاست چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں خیبرپختونخوا کے عوام مایوسی کی سیاست کو مسترد کر کے ترقی، امن اور خوشحالی کے حق میں فیصلہ کریں گے، کیونکہ صوبائی حکومت اپنے طویل دورِ اقتدار میں عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔





