افغانستان: تخار میں طالبان سے منسلک کان مائنرز اور مقامی باشندوں کے تصادم میں چار ہلاک

افغانستان : افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چا ہ آب میں رہائشی آبادی کے قریب سونے کی کان کنی کے معاملے پر مقامی باشندوں اور طالبان سے منسلک کان مائنرز کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں چار افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

افغان میڈیا کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب طالبان سے وابستہ افراد اور سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی کے اہلکار بھاری مشینری کے ساتھ علاقے میں کان کنی کا آپریشن شروع کرنے پہنچے، جس کی مقامی افراد نے سخت مخالفت کی۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر دونوں فریق آمنے سامنے آ گئے اور تصادم شروع ہو گیا۔

افغان میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد طالبان پر پتھراؤ کر رہے ہیں جبکہ فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔

ویڈیو میں فائرنگ کے بعد مقامی لوگوں کو موقع سے بھاگتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ سونے کی کان کنی کرنے والی کمپنی کے اہلکار بھاری مشینری کے ہمراہ علاقے میں موجود نظر آتے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق گاؤں میں سونے کی تلاش کے لیے آنے والے نامعلوم افراد نے مجمع کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔

مظاہرین نے جوابی کارروائی میں کمپنی کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، جس سے مزید افراد بھی زخمی ہوئے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران طالبان کی فائرنگ سے تین مقامی شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک طالبان جنگجو بھی ہلاک ہوا جسے مقامی افراد نے بیلچہ مار کر ہلاک کیا۔

یہ بھی پڑھیں : وفاقی وزیرخزانہ اور ان کی معاشی ٹیم کو برقرار رکھا جائے گا،سینئرصحافی حسن ایوب کا دعوی

ذرائع کے مطابق متنازع سونے کی کانیں قندھار کے دو باشندوں حاجی محب اور حاجی روح اللہ روحانی کی ملکیت ہیں، جو طالبان سے وابستہ بتائے جاتے ہیں اور مقامی چینی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سونے کی کان کنی کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ماضی میں بھی طالبان اور مقامی باشندوں کے درمیان کان کنی کے معاملات پر جھگڑے ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل ضلع جرم میں طالبان کے اندرونی تصادم کے دوران بھی ایک رکن ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کے مختلف صوبوں میں معدنی وسائل پر ان کی گرفت مضبوط ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سونے اور دیگر معدنیات کی کان کنی کے معاملات پر کئی علاقوں میں تنازعات جنم لے چکے ہیں۔

ناقدین طویل عرصے سے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن اور اس کے استعمال پر شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

Scroll to Top