پنجاب سے آٹے کی سپلائی پر پابندی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نرخ نامہ جاری نہ کرنے کے خلاف پشاور کے نانبائیوں نے ہڑتال کی دھمکی دے دی۔
انجمن پختونخوا نانبائی ایسوسی ایشن ضلع پشاور کے چیئرمین خائستہ گل مہمند اور جوائنٹ سیکرٹری جانزیب نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے آٹے کی سپلائی پر عائد پابندی غیر قانونی ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اب تک 1700 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔
نانبائی ایسوسی ایشن کا کہنا ہے آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے تندور مالکان کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، مہنگائی، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور انتظامیہ کی جانب سے پکڑ دھکڑ کے باعث کاروبار چلانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے تاحال نیا نرخ نامہ جاری نہیں کیا، جبکہ گزشتہ کئی ماہ سے آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انجمن کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب حکومت فوری طور پر آٹے کی سپلائی پر عائد پابندی ختم کرے، ضلعی انتظامیہ نیا نرخ نامہ جاری کرے اور تندور مالکان کے خلاف پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کیا جائے۔
پنجاب حکومت صوبے کے ساتھ ناانصافی نہ کرے، بصورت دیگر نانبائی پنجاب حکومت کے خلاف ہڑتال پر مجبور ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سالِ نو کی پہلی ضرب! خیبر پختونخوا میں آٹا ایک بار پھر مہنگا، 20 کلو کی قیمت میں 400 روپے سے زائد اضافہ
نانبائیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صوبے بھر میں تندور مالکان کی معاشی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔





