پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت پر سخت طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر سندھ حکومت نے انہیں اجرک ٹوپی پہنائی، جسے انہوں نے طنزیہ طور پر ’’ٹوپی ڈراما‘‘ قرار دیا۔
حالیہ بیانات کے بعد پی ٹی آئی آج کراچی میں جلسہ کرنے جارہی ہے، جس کے حوالے سے حلیم عادل شیخ نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ مزار قائد پر پہنچیں اور جلسے میں لازمی شرکت کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا سیاسی اور جمہوری حق ہے اور اسے ہر حال میں انجام دیا جائے گا۔
حلیم عادل نے سندھ حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پیپلز پارٹی کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا۔ پہلے ٹی وی پر بیٹھ کر سندھ کے وزیر نے اعلان کیا کہ جلسہ کریں اور درخواست بھی دی گئی، لیکن پھر این او سی جاری کرنے میں تعطل پیدا کیا گیا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ جلسے کے لیے کل شام پانچ بجے تک این او سی جاری نہیں کی گئی، اور اس دوران کارکنان کو باغ جناح سے روکا گیا۔ تاہم، 6 بجے این او سی جاری کی گئی، جس کے بعد جلسے کے انتظامات مشکل مگر ممکن ہو سکے۔
حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ ’’مزار قائد کے عوامی گیٹ پر جلسہ کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ کے پی کا عوامی استقبال انتہائی شاندار رہا، اور انہیں حیدرآباد سے کراچی پہنچانے میں سات گھنٹے لگے۔‘‘
پی ٹی آئی رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جلسہ کسی سیاسی مخالفت یا احتجاج کے لیے نہیں بلکہ عوامی حقوق اور جمہوری اظہار کے لیے ہے، اور حکومت سندھ کو چاہیے کہ جلسے کے دوران ماحول کو خراب نہ کرے۔
حالیہ تنازع اور طنزیہ بیان کے بعد یہ واضح ہے کہ آج کراچی کا سیاسی منظرنامہ انتہائی سسپینس اور دلچسپی کا حامل ہوگا، اور عوام کی بڑی تعداد مزار قائد میں جلسے میں شرکت کے لیے پہنچنے کی توقع ہے۔





