کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے باغ جناح گراؤنڈ میں جلسے کے دوران کشیدگی، کارکنان مشتعل ہوگئے۔
پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اس دوران مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس میں 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کی بھاری نفری باغ جناح گراؤنڈ میں داخل ہو گئی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے کراچی کے عوام کے نام خصوصی پیغام میں کہا کہ وہ اپنی رہائش گاہ سے جلسہ گاہ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا اور اسے روکنے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود جلسہ ہو کر رہے گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق وہ بلدیہ ٹاؤن کیماڑی سے ہوتے ہوئے بنارس چوک پھر گولی مار اور گرو مندر سے ہوتے ہوئے مزار قائد پہنچیں گے۔
سہیل آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ ان تمام علاقوں کے کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ راستے میں ان کے قافلے میں شامل ہوں۔
سہیل آفریدی نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ٹوپی اور اجرک کی لاج نہیں رکھی اور باغ جناح آنے اور جانے کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ وہ ریلی کی صورت میں باغ جناح پہنچ رہے ہیں اور کراچی میں آج جلسہ ہر صورت ہو کر رہے گا۔





