خیبرپختونخوا کی صوبائی کابینہ میں مجوزہ توسیع کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق اس کے پیچھے حکمران جماعت کے اندر موجود اختلافات اہم وجہ ہیں۔ ایسے خدشات تھے کہ کابینہ میں نئے اراکین کی شمولیت کے دوران یہ اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر نظم و ضبط متاثر ہونے کا امکان تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کابینہ میں توسیع کے لیے کچھ ناموں کو حتمی شکل دے دی تھی، جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید پانچ سے چھ ارکان کو شامل کرنے پر غور کیا جا رہا تھا۔ تاہم پارٹی کے اندر مختلف گروپس کی جانب سے تحفظات اور مطالبات سامنے آنے کے بعد یہ عمل روکا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق کئی اراکین اسمبلی یہ خواہش رکھتے تھے کہ انہیں بھی کابینہ میں شامل کیا جائے، جس کے باعث اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ اس صورتحال کی وجہ سے وزیراعلیٰ نے عارضی طور پر کابینہ میں توسیع روکنے کا فیصلہ کیا تاکہ پارٹی میں انتشار پیدا نہ ہو۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کابینہ کی موجودہ ساخت کے ساتھ صوبائی حکومت اپنے معمول کے امور جاری رکھے گی، اور آئندہ مشاورت کے بعد ہی اس معاملے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پارٹی قیادت کابینہ میں توسیع کے دوران ممکنہ اختلافات اور اندرونی کشیدگی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ صوبائی سطح پر حکومت کے کام کا تسلسل برقرار رہے۔





