تیراہ آپریشن: ادریس خان صوبائی حکومت پر برس پڑے، امن کی ناکامی کی وجوہات بتا دیں

اسلام آباد: تیراہ میں جاری آپریشنز کے حوالے سے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناقص کارکردگی اور وفاقی و صوبائی سطح پر ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے علاقے میں امن قائم نہیں ہو رہا۔

پبلک سیکیورٹی اینالسٹ ادریس خان نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوات آپریشن کے دوران وزیر اعظم، آرمی چیف اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ تینوں ایک صفحے پر تھے، جس کی وجہ سے سوات میں امن ممکن ہوا۔

لیکن آج کے دور میں موجودہ صوبائی حکومت عوام کے لیے نہیں بلکہ اپنے ذاتی یا سیاسی ایجنڈے پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ صرف سابق وزیراعظم عمران خان کو رہا کروانے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ عوامی مسائل پس پشت رہ گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ میں پولیس کے لیے بنیادی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی گئیں، جو صوبائی حکومت کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ادریس خان نے کہا کہ تیراہ آپریشن کے لیے پہلے ایپکس کمیٹی بلانا ضروری تھا تاکہ وزیر اعظم، آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ ایک صفحے پر آ سکیں۔

پاک آرمی کی قربانیاں جاری ہیں اور جوان شہادتیں دے رہے ہیں، ادریس خان کا کہنا ہے کہ پولیس کو آپریشن میں شامل کرنا چاہئے۔

ادریس خان نے سوات آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جب دہشتگرد سکولوں اور پولیس تھانوں کو نشانہ بنا رہے تھے، تب بھی تین مہینوں کے اندر انفراسٹرکچر کی بحالی ممکن ہوئی تھی اور آخرکار سوات میں امن قائم ہوا۔

تاہم آج کے حالات میں امن پاسون بھی ہو رہے ہیں، مگر صوبائی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے امن ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں : شدید دھند کے باعث موٹرویز کے مختلف سیکشنز بند

انہوں نے تیراہ میں بنیادی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی کی کمی ہے، اور بیوروکریسی صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو چکی ہے۔

ادریس خان نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی کو خیبر کے عوام نے کس بنیاد پر ووٹ دیا اور وہ کس طرح وزیراعلیٰ بن گئے، یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی اور سیاسی ترجیحات کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کے حالات اب تک درست نہیں ہو سکے، اور عوام کی بنیادی ضروریات بھی نظر انداز کی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top