اسلام آباد : صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے فوری ردعمل کے لیے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ہنگامی ہدایات جاری کیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہدایت کی کہ ریسکیو اور فائرفائٹنگ آپریشن میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ آگ سے متاثرہ افراد کی بروقت مدد ممکن ہو سکے۔
انہوں نے شہید فائرفائٹر فرقان شوکت کی شجاعت کو سراہتے ہوئے اسے سول ایوارڈ کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دی۔
صدر زرداری نے زخمیوں کی طبی نگہداشت اور متاثرین کے گھروں کی بحالی کے فوری اقدامات کی بھی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے فائر سیفٹی قوانین کے نفاذ اور تجارتی و رہائشی عمارتوں میں حفاظتی معائنوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر بھی زور دیا تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام ممکن ہو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ٹیلیفونک گفتگو میں آگ سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت متاثرین اور سندھ حکومت کے ساتھ ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق ریسکیو ٹیمیں اور فائرفائٹرز بروقت کارروائی میں مصروف ہیں جبکہ امدادی کاموں کے لیے اضافی وسائل بھی منتقل کیے گئے ہیں۔ا
یہ بھی پڑھیں : کراچی، گل پلازہ آتشزدگی، 24 گھنٹے بعد بھی آگ بے قابو، عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس، درجنوں افراد تاحال لاپتہ
یار رہے کہ کل کراچی کے مصروف ترین تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔
24 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں، رت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔
آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان شوکت سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ متعدد افراد بے ہوش حالت میں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیے گئے۔
ضلع انتظامیہ کو اہلخانہ کی جانب سے 33 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی، سندھ حکومت کی ہدایت پر ڈی سی ساؤتھ نے مسنگ پرسن ڈیسک قائم کر دیا ہے اور لاپتہ افراد کا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔
لاپتہ افراد میں شیخ سلمان، عمر نبیل، ڈاکٹر عائشہ، عمر علی، سلمان، حسن، چرچل، سفیان، عبداللہ، حمزہ، تنویر، کائنات، راحیلہ، شائستہ، صداقت اللہ، اشعر، انس عمران، محمد شیر، نوید پنجوانی، عدنان حنیف، محمد کامران، یاسین، نعمت، صداقت، محمد یوسف، عبدالله، علی گھانچی، سرفراز، فیصل، آصف، سعد، اسلام الحق اور غفران احمد شامل ہیں۔
ریسکیو آپریشن کے دوران دو فائر فائٹرز بھی زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جس کے بعد اموات کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔





