پشاور میں صحت کا نیا انقلاب؟ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دیرپا اصلاحات پر کام تیز کرنے کی ہدایت دے دی۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت شعبہ صحت کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کے ہسپتالوں میں جاری اصلاحات اور صحت کے نظام کی بہتری پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ہسپتالوں میں فوری مسائل کے حل کے بجائے ایک جامع اور دیرپا حکمت عملی اختیار کرنے پر زور دیا۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے پرائمری اور سیکنڈری ہسپتالوں کی ریویمپنگ پر کام تیز کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے غیر ضروری ریفرلز کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ صرف ناگزیر ریفرلز کے لیے ٹھوس جواز موجود ہو اور بیڈ مینجمنٹ کا سنٹرلائزڈ نظام قائم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ضروری ریفرلز کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بڑے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جسے فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ایم ٹی آئی ہسپتالوں اور آئی سی یوز میں بیڈز بڑھانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے بچوں کی صحت پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے پیڈیاٹرک سروسز کی بہتری اور بچوں کے علاج کے لیے صحت کارڈ میں بجٹ مختص کرنے کا اعلان کیا۔ صحت کارڈ میں شامل نجی ہسپتالوں کے ساتھ برڈن شیئرنگ اور قواعد و ضوابط کو جلد حتمی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی۔
وزیر اعلیٰ نے ڈاکٹروں کے لیے ہسپتالوں کے قریب ہاسٹل کے انتظامات کرنے کی ہدایت دی تاکہ طبی عملہ بہتر طور پر اپنی خدمات انجام دے سکے۔ انہوں نے ہسپتالوں کو اپنا سسٹم اپگریڈ کرنے کی بھی ہدایت دی تاکہ لنک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ نتائج میں تاخیر نہ ہو۔
مزید براں، بڑے ہسپتالوں کے لیے ایک مشترکہ ڈیش بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے باقاعدگی سے اپڈیٹ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صحت اور تعلیم عوام سے براہِ راست جڑے ہیں، اس لیے ان پر خصوصی توجہ دی جائے اور ہسپتالوں کی بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔
سہیل آفریدی نے اس موقع پر واضح کیا کہ عوام کی صحت ان کی پہلی ترجیح ہے اور وسائل کی کمی کبھی بھی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے صحت نظام میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات کے ذریعے عوام کو بہترین خدمات فراہم کی جائیں۔





