وزیراعظم شہباز شریف نے’’ غزہ بورڈ آف پیس ‘‘کے مسودے پر دستخط کر دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران عالمی برادری کو امن کی جانب اہم پیغام دیا۔ تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سمیت متعدد ممالک کے سربراہان نے بھی معاہدے پر دستخط کیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ بورڈ آف پیس پر اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھیں گے اور غزہ میں جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس کو لازمی طور پر غیر مسلح ہونا ہوگا ورنہ اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔

امریکی صدر نے اس موقع پر ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کے خطرے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ایٹمی ملک ہیں اور انہوں نے مداخلت کر کے دونوں کے درمیان جنگ رکائی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے گزشتہ دس ماہ میں دنیا بھر میں آٹھ جنگیں روکیں، شام کے صدر سے بات کی اور شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر امریکی صدر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مداخلت سے ایک یا دو کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی گئی ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں اور مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں اور تعاون ضروری ہیں۔

بورڈ آف پیس کی یہ تقریب عالمی قیادت کی جانب سے امن کے قیام کی ایک نمایاں کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، اور عالمی سطح پر اس پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔

غزہ بورڈ آف پیس معاہدے پر پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، قطر، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، ازبکستان، اردن، بحرین، مراکش، آرمینیا، ارجنٹائن، کوسوو، پیراگوئے، منگولیا، آذربائیجان اور بلغاریہ نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے چارٹر پر دستخط کر دیے۔

Scroll to Top