خاموشی ٹوٹ گئی! جمعرات کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں جائیں گے؟ بالآخر حتمی اعلان کر دیا

خاموشی ٹوٹ گئی! جمعرات کو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کہاں جائیں گے؟ بالآخر حتمی اعلان کر دیا

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اسٹریٹ موومنٹ کو 8 فروری تک عروج پر لے جایا جائیگا اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیاجائیگا ۔

تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کرائے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو خود اڈیالہ جیل جائیں گے اور اس اقدام کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

نوشہرہ کے علاقے تاروجبہ میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جاری تحریک فسطائیت کے خلاف ایک منظم، پرامن اور آئینی جدوجہد ہے، جس میں کسی قسم کے تشدد یا انتشار کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے کارکنان کو ہمیشہ پرامن سیاسی جدوجہد کا درس دیا ہے، جس پر مکمل طور پر عمل کیا جا رہا ہے، اسی لیے اس پوری تحریک کے دوران کسی قسم کی توڑ پھوڑ کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام اس آئینی حق کو ہر صورت استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ماضی میں بھی پرامن تھے، آج بھی پرامن ہیں اور آئندہ بھی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ اسٹریٹ موومنٹ کو 8 فروری تک عروج پر لے جایا جائے گا، جس کا بنیادی مقصد ناحق قید اپنے قائد عمران خان کی رہائی کے لیے عوامی آواز کو منظم اور مزید طاقتور بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مرحلے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اسٹریٹ موومنٹ کے دوران عوام میں جس جذبے، ولولے اور جوش و خروش کا مشاہدہ کیا گیا، وہ بے مثال ہے اور وہ اس جدوجہد میں شامل تمام شرکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی سطح کے مقبول رہنما عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا جانا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ جمہوری اقدار کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مزید برآں، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، جو ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں، انہیں بھی قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے، جو انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک عمل ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ کو فیملی ملاقات تک کی اجازت نہ دینا قابلِ مذمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو عناصر ملاقاتوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انہیں فوری طور پر یہ رکاوٹیں ختم کرنی چاہئیں، کیونکہ اگر عوامی غصہ اسی طرح بڑھتا رہا تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری انہی عناصر پر عائد ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ جدوجہد کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ آئین، جمہوریت، قانون کی بالادستی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے ہے، اور خیبرپختونخوا کے عوام ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، تاہم وہ کبھی بھی آئین اور پرامن جدوجہد کا راستہ ترک نہیں کریں گے۔

بعد ازاں مردان میں پاکستان چوک پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام نے جس نظم و ضبط، سیاسی شعور اور جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم اپنے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر بیدار ہو چکی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ جمعرات کو اڈیالہ جیل جائیں گے اور اس ظلم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہوں یا احتجاج، اس کا فیصلہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کرے گی، اور اگر جیل سے احتجاج کی کال دی گئی تو پھر کسی کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی وقت ہے کہ ظلم و جبر کا سلسلہ بند کیا جائے، کیونکہ طاقت کے زور پر قوم کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

Scroll to Top