تیراہ میں معدنیات کا دعوی بےبنیاد قرار،آمدنی کا انحصار بھنگ کی کاشت پر ہے،سینئرتجزیہ کارحمادحسن

سینئر صحافی و تجزیہ کار حماد حسن نے کہا ہے کہ خیبر کے علاقے تیراہ کے مکین ہر سال شدید سردی سے بچنے کے لیے موسمی یا سیزنل نقل مکانی کرتے ہیں اور گرمیوں میں واپس اپنے علاقوں میں لوٹ آتے ہیں۔

سینئر صحافی فرخ عباس کے ساتھ پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں ہونے والی سیزنل نقل مکانی کے دوران ہر خاندان کے چند افراد اپنی فصلوں اور مویشی کی دیکھ بھال کے لئے وادی میں ہی رہتے تھے تاہم حالیہ نقل مکانی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ علاقے کو مکمل طور پر خالی کیا جائے گا۔

حماد حسن نے واضح کیا کہ تیراہ میں کسی بڑے آپریشن یا معدنی وسائل کی بنیاد پر کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ قبائلی علاقوں کے بعض حصوں میں معدنیات کی معلومات موجود ہیں، لیکن تیراہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لیے ایسی کوئی ٹھوس معلومات نہیں۔

انہوں نےکہاکہ ماضی میں ایک سروے ہوا تھا جس میں علاقے کی فضا زیتون کی کاشت کے لیے سازگار قرار دی گئی تھی مگر وہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ تیراہ میں مکئی، آلو اور لوبیا جیسی فصلیں کاشت ہوتی ہیں اور بعض مخصوص فصلیں آمدنی کا ذریعہ رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیراہ کے لوگ صرف ایک مخصوص قسم کی بھنگ کی کاشت پر انحصار کرتے ہیں، جو چرس میں استعمال ہوتی تھی اور یہی مقامی لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ ہے۔

حماد حسن نے “بند کمروں میں فیصلے” کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی خط و کتابت، صوبائی کابینہ اجلاس میں مالی منظوری، اور مختلف ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ فیصلے چھپ کر نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ نقل مکانی سے قبل مقامی عمائدین کے جرگے کے 56 اجلاس ہوئے اور 28 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے صوبائی حکومت کو خط لکھ کر تقریباً ایک لاکھ افراد کی تیراہ سے آمد کی اطلاع دی۔ اس کے بعد 14 نومبر کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں چار ارب روپے کے اقدامات کی منظوری دی گئی۔ لیکن انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ افراد کے لیے صرف ایک رجسٹریشن آفس قائم کیا گیا، جس کی وجہ سے رش اور طویل قطاریں لگیں، اور اس دوران برفباری اور شدید سردی کے باعث بچوں کی اموات ہو گئیں۔ بعد میں خیبر پختونخوا حکومت نے دو تین اضافی رجسٹریشن دفاتر قائم کیے، لیکن تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔

حماد حسن نے حکومت کی دوسری بڑی غلطی بھی اجاگر کی کہ نقل مکانی شروع کرنے سے پہلے محکمہ موسمیات سے رابطہ نہیں کیا گیا، جس سے بروقت اقدامات ممکن نہ ہو سکے۔تیراہ کے دو علاقے ہیں، لر تیراہ اور بر تیراہ، اور میدان ان کا مرکز ہے۔ دونوں علاقوں کے لوگوں کی ایک ساتھ نقل مکانی کے باعث مسائل مزید بڑھ گئے۔

حماد حسن نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی عوام کی بدقسمتی ہے کہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے جلسے جلوسوں میں مصروف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو خیبر پختونخوا کی ترقی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اگر خیبر پختونخوا کی ترقی ان کا مقصد ہوتی تو ان کےوزرا اعلی پرویز خٹک، علی امین گنڈاپور پر کرپشن کے الزامات لگتے رہےلیکن انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف بھی ایکشن تب لیا گیا جب انہوں نے علیمہ خان کے خلاف بیان دینا شروع کردیئے تھے

Scroll to Top