سعودی عرب جانے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم ہدایت جاری

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے سعودی عرب کے کسٹمز قوانین کے حوالے سے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ہر قسم کی منشیات لانا سختی سے ممنوع ہے۔

بعض اشیاء، جنہیں عام طور پر بے ضرر سمجھا جاتا ہے، بھی قانونی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

خصوصاً خشخاش کے بیج سب سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ جائفل اور اس کا پاؤڈر بھی نفسیاتی اثرات کے باعث محدود یا ممنوع اشیاء کی فہرست میں شامل ہیں۔

جائفل کو پاکستانی اور ہندوستانی کھانوں میں اکثر میٹھے اور لذیذ پکوان بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےلیکن سعودی قوانین میں اس کے استعمال پر پابندی یا محدودیت عائد ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نے بتایا کہ سعودی زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی نے مسافروں کے لیے ممنوعہ اشیاء کی مستند فہرست جاری کر رکھی ہے تاکہ کوئی بھی شخص لاعلمی میں قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سفر یا روزگار کے لیے جانے والے ہر پاکستانی کے لیے ضروری ہے کہ روانگی سے قبل اس فہرست کا بغور مطالعہ کرے اور اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے سمجھے۔

Scroll to Top