اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے الزام عائد کیا ہے کہ وفاقی حکومت نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو خفیہ طور پر ہسپتال منتقل کیا، جبکہ اس عمل سے اہلِ خانہ اور وکلاء کو لاعلم رکھا گیا۔
جاری کردہ بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی طویل عرصے سے عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات ظاہر کر رہی تھیں، تاہم وفاقی حکومت مسلسل عوام کو گمراہ کرتی رہی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر عطا تارڑ کا حالیہ اعتراف دراصل خود وفاقی حکومت کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے، جس نے ان کے سابقہ مؤقف اور بیانات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
معاون خصوصی نے کہا کہ بانی چیئرمین کو ہسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود ان کے ذاتی معالج کو رسائی نہ دینا اور اہلِ خانہ و وکلاء کو آگاہ نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق یہ عمل وفاقی اور پنجاب حکومت کے ساتھ ساتھ جیل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
شفیع جان نے واضح کیا کہ اگر فوری طور پر عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہ دی گئی تو پاکستان تحریک انصاف سخت لائحہ عمل اختیار کرے گی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں پر غیر قانونی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، جو آئین، قانون اور جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی آج عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں : شفیع جان نے 8 فروری احتجاج کے حوالے سے بڑا اعلان کردیا
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پی ٹی آئی قیادت اڈیالہ جیل آتی ہے تو انتظامیہ کی جانب سے کرفیو جیسی صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ جب تک بانی چیئرمین کی اپنے ذاتی معالج سے ملاقات نہیں کرائی جاتی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، پارٹی کے ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز اڈیالہ جیل کے باہر پرامن طور پر موجود رہیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جعلی مقدمات کے باوجود عمران خان کی عوامی مقبولیت سے حکمران طبقہ خوفزدہ ہے، جبکہ موجودہ وفاقی حکومت کی تمام تر توجہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے سیاسی انتقام پر مرکوز ہے۔
معاون خصوصی نے پنجاب حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں شعبۂ صحت بدحالی کا شکار ہے اور وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کی رپورٹ خود پنجاب حکومت کے خلاف ایک واضح چارج شیٹ ہے۔





