وفاقی وزیر امیر مقام نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جلد نواز شریف کے نظریے پر حکومت قائم ہوگی۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 13 برسوں سے جاری حکومت نے خیبرپختونخوا کو شدید نقصان پہنچایا اور صوبہ عملی طور پر ڈوب چکا ہے۔
امیر مقام کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ریکارڈ ترقی ہو رہی ہے، بچوں کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا رہے ہیں اور عوام کو سہولیات میسر آ رہی ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام بھی ترقی چاہتے ہیں اور پنجاب جیسی حکومت کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق پختون محب وطن پاکستانی ہیں اور بہتر مستقبل کے لیے درست قیادت کا انتخاب چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں رہے، جبکہ موجودہ صوبائی حکومت کے پاس فراڈ اور جھوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے موجودہ وزیر اعلیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا وزیر اعلیٰ ہے جو اپنی ہی حکومت کے دوران احتجاج کرتا نظر آتا ہے۔
امیر مقام نے سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کام کرنے کے بجائے قیدی نمبر 804 کے پیچھے گھومتے پھر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ صوبے کے مسائل حل کرنے کے بجائے کبھی لاہور اور کبھی اسلام آباد کے دوروں میں مصروف رہتے ہیں۔
انہوں نے 8 فروری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کسی صورت 9 مئی جیسے واقعات کو دہرانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا اور 8 فروری کو ہونے والا احتجاج چلے ہوئے کارتوس کے مترادف ہوگا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا کوئی ایجنڈا کامیاب نہیں ہوگا اور پختون عوام کو چاہیے کہ وہ ان کے نعروں اور جھانسوں میں نہ آئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے پختونوں کو بدنام کیا اور انہیں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، جبکہ عمران خان کے اپنے بچے لندن میں مقیم ہیں۔





