پشاور: خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پولیس کے ایک ایس ایچ او، سب انسپکٹر عبدالعلی خان کے حالیہ شرمناک اور رجعت پسندانہ بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کی زبان نہ صرف نامناسب بلکہ آئین، معاشرت اور پولیس کے وقار کے لیے بھی توہین آمیز ہے۔
گورنر نے اپنے ٹوئٹر (X) اکاؤنٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے واضح کیا کہ کوئی بھی افسر شہریوں، خاص طور پر خواتین کے کردار یا انتخاب پر فیصلہ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
Strongly condemn the shameful and regressive remarks made by this SHO. This kind of language is not just inappropriate, it is an insult to the Constitution, to our society, and to the uniform he wears. No officer has the right to sit in judgment over the character, choices, or… pic.twitter.com/FtyZSki7AZ
— Faisal Karim Kundi (@fkkundi) January 31, 2026
ان کا کہنا تھا کہ یہ پولیسنگ نہیں بلکہ اختیار کا غلط استعمال ہے، کیونکہ پولیس کا بنیادی مقصد عوام کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ انہیں اخلاقی لحاظ سے قابو پانا۔
گورنر نے مزید کہا کہ جو بھی افسر شہریوں کو ذلیل، بے عزت یا شرمندہ کرتا ہے وہ عوامی خدمت کے لیے نااہل ہے، اور اس کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ہونا چاہیے۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنر صوابی اور خیبر پختونخوا پولیس کے اعلی افسران سے اس سلسلے میں فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات آج شیڈول، تیراہ سمیت اہم امور زیر غور آئیں گے
گورنر نے اپنی ٹویٹ میں زور دیا کہ خواتین کے حقوق کا احترام ہر شہری اور افسر کی ذمہ داری ہے، اور خیبر پختونخوا پیچھے نہیں جائے گی، بلکہ وقار، حقوق اور انصاف کے راستے پر آگے بڑھے گی۔
ٹویٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب عوامی حلقوں میں پولیس کے رویے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بحث زور پکڑ رہی ہے، اور شہریوں نے بھی ایس ایچ او سب انسپکٹر عبدالعلی خان کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔





