علیمہ خان کی وجہ سے پی ٹی آئی کمزور؟ شیر افضل مروت کے بیانات نے پارٹی کی اندرونی کہانی بے نقاب کر دی

علیمہ خان کی وجہ سے پی ٹی آئی کمزور؟ شیر افضل مروت کے بیانات نے پارٹی کی اندرونی کہانی بے نقاب کر دی

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پاکستان تحریک انصاف کی اندرونی صورتحال پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی علیمہ خان کے بیانات کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے اور ان کا ہر بیان کسی نہ کسی تنازعے کو جنم دیتا ہے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علیمہ خان کو جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرنے سے منع کر رکھا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ بار بار اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں پارٹی کو سیاسی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے اپنی پارٹی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں صرف اسی صورت شریک ہوتے ہیں جب یہ اجلاس پارلیمنٹ کے اندر منعقد کیے جائیں، جبکہ پارلیمنٹ سے باہر ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔

رکن قومی اسمبلی نے 8 فروری کو صوبہ بند کرنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے صوبہ بند کرنے کی کوئی کال نہیں دی، کیونکہ کسی صوبے کو ایک بٹن دبا کر بند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق پارٹی کی جانب سے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی گئی تھی، تاہم قیادت کی جانب سے اس پر مؤثر اور عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کامیابی کے لیے نہ تاجروں سے رابطہ کیا گیا اور نہ ہی ٹرانسپورٹرز کو اعتماد میں لیا گیا، جس کی وجہ سے احتجاجی حکمت عملی کمزور ثابت ہوئی۔

انہوں نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیانات ایسی رعونت اور تحکمانہ انداز میں دیے جاتے ہیں جیسے پارٹی عہدیدار کوئی نوکر ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی رویہ رہا تو اگلا حکم شاید سانس لینے پر پابندی کا ہو۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے کہ صرف اسی صوبے کو بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ شیر افضل مروت کے مطابق پارٹی کو مضبوط بنانے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کا واحد مؤثر راستہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایک بھرپور، منظم اور ملک گیر احتجاجی تحریک ہے، جس میں پورے پاکستان کے عوام اور پارٹی کارکنوں کی شرکت ناگزیر ہے۔

Scroll to Top