بلوچستان! سکیورٹی فورسز کا آپریشن رد الفتنہ 1 کامیابی سے مکمل، 216 دہشتگرد جہنم واصل

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن ردالفتنہ-1 کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا، جس کے دوران 216 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ دہشت گرد بلوچستان میں خواتین، بچوں اور دیگر معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ 29 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی کے مضافاتی علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع ملنے پر سکیورٹی فورسز فوری طور پر کارروائی کے لیے حرکت میں آئیں۔ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 41 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بعد ازاں وسیع پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورک کے خفیہ ڈھانچے کو ختم کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ محتاط منصوبہ بندی، مربوط کارروائیوں اور قابلِ عمل انٹیلی جنس کے ذریعے سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے اور عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کارروائیوں کے دوران غیر ملکی ساختہ ہتھیار، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر آلات بھی برآمد کیے گئے، جن سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کو بیرونی سطح پر منظم سہولت کاری اور لاجسٹک مدد حاصل تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردی کے دوران 36 بے گناہ شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، شہادت کے درجے پر فائز ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آئی ایس پی آر نے ان کی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل عزم کو سلام پیش کیا اور شہداء کے خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

پاکستان کی مسلح افواج نے حکومت پاکستان کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے ہر پہلو کے خلاف لڑنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی۔

آئی ایس پی آر نے اس آپریشن کو بلوچستان کے عوام کے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا، جو تشدد کے بجائے امن، انتشار کے بجائے اتحاد اور تقسیم کے بجائے ترقی کو ترجیح دیتے ہیں

Scroll to Top