پاکستان تحریک انصاف کا اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا مختلف مقامات پر تقسیم ہو کر رہ گیا ہے جس کے باعث اب مظاہرین تین الگ الگ گروہوں کی شکل میں موجود ہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کا ایک حصہ خیبر پختونخوا ہاؤس کے سامنے دھرنا دیے بیٹھا ہے جس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کر رہے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ صوبائی وزراء، اراکینِ اسمبلی اور کارکنوں کے ساتھ خواتین کی بھی موجود ہیں۔
مظاہرین کی ایک دوسری بڑی تعداد پارلیمنٹ ہاؤس کی لابی میں موجود ہے جہاں محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور مشال یوسفزئی سمیت اپوزیشن کے دیگر اراکینِ قومی اسمبلی و سینیٹ اور کارکنان احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔
اسی طرح احتجاج کا تیسرا حصہ پارلیمنٹ لاجز کے اندر موجود ہے جہاں کچھ اراکینِ قومی اسمبلی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا پُرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔
انہوں نے کہاکہ پہلے مجھے بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت بہتر ہے، ملک میں اچھے ڈاکٹرز موجود ہیں ان کا علاج کروانا چاہتے ہیں، اس معاملے کو الجھائے بغیر حل کی طرف بڑھنا چاہیے۔





