بنگلادیش الیکشن کمیشن نے جمعرات کو ہونے والے 13 ویں پارلیمانی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔
نئی پارلیمنٹ میں جماعتی پوزیشن واضح ہو گئی ہے، جس میں بی این پی سب سے آگے رہی اور 209 نشستیں حاصل کیں۔
جماعت اسلامی بنگلادیش 68 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی 6 نشستیں جیت کر تیسرے مقام پر رہی۔
اسرائیلی اندلون بنگلادیش نے ایک نشست حاصل کی، جبکہ بنگلادیش خلافت مجلس نے دو نشستیں حاصل کیں۔
لافت مجلس اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں نے ایک، ایک نشست جیتی، جبکہ آزاد امیدوار سات حلقوں میں کامیاب ہوئے۔ چٹاگانگ کے چند حلقوں کے نتائج ابھی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر انتخابات میں 59.44 فیصد ووٹرز نے حصہ لیا۔
ممکنہ وزیر اعظم طارق رحمان نے کارکنان اور عوامی وفود سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو خود کو محفوظ سمجھنا چاہیے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنائے۔
طارق رحمان نے خواتین کے حقوق اور معاشرتی کردار پر بھی زور دیا، کہا کہ ملک کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے، اس لیے جماعت ان کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خصوصی توجہ دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر قومی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔





