مہوش قماس خان
اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کا دھرنا پارلیمنٹ کے احاطے میں شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں بانی تحریک انصاف عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے مطالبے کے تحت اپوزیشن ارکان احتجاج میں شریک ہیں۔
شرکاء پارلیمنٹ کے باہر بھی احتجاج کر رہے ہیں اور دھرنے کی صورتحال مزید نازک ہوتی جا رہی ہے۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 100 سے زائد ارکان پارلیمنٹ کو یہاں قیدی بنا کر رکھا گیا ہے۔
ہم دھمکیاں دینے والے لوگ نہیں۔ حکومت رابطہ کرے یا نہ کرے، دھرنا جاری رہے گا۔ مطالبات نہ مانے گئے تو رمضان میں بھی دھرنا جاری رہے گا، ہم یہاں روزے رکھیں گے اور تراویح بھی پڑھیں گے۔
سیاست جذبات کا کھیل نہیں، یہاں احتیاط سے قدم لینا پڑتا ہے۔
بعض لوگ گھروں میں گرم انگیٹھی کے سامنے پاوں پھیلا کر گالیاں دیتے ہیں کہ بس آپ چڑھ دوڑیں۔
ہمیں لوگوں کے بچے پیارے ہیں، انہیں ان ظالموں کے سامنے کھڑا کردیں کہ وہ ان کو گولیاں مارے؟
کسی کو یہ شوق پورا کرنا ہے تو کرلیں
— Mehmood Khan Achakzai (@MKAchakzaiPKMAP) February 13, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کو اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے تین ڈاکٹرز کے ناموں پر مشتمل خطوط لکھے گئے تھے، مگر حکومت نے اس پر کوئی اقدام نہیں کیا۔
کل بھی بات ہوئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کو الشفا ہسپتال لے جانے تک دھرنا جاری رکھیں گے تاکہ ان کی آنکھ ضائع نہ ہو، اور وہ جس اسپتال میں علاج کرانا چاہیں، کرائیں۔
محمود خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کا جرم کیا ہے؟ ہم اپنا مینڈیٹ واپس مانگ رہے ہیں اور اس پارلیمنٹ کی آزادی کے لیے کسی حد تک بھی جائیں گے۔
نجی ٹی وی پروگرام میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے اپوزیشن سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں : لانگ مارچ، دھرنے سے کسی کی آزادی نہیں ہو سکتی، گورنر خیبر پختونخوا
ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹرز کے نام وزیراعظم کو بھیجے گئے، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، سمجھ نہیں آ رہا کہ حکومت کیا چاہ رہی ہے اور کیا کر رہی ہے۔
سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ایسے ہسپتال منتقل کیا جائے جہاں تمام میڈیکل سہولیات موجود ہوں اور انہیں ذاتی میڈیکل ٹیم تک رسائی دی جائے۔
سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی کا مکمل علاج نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا۔





