ماسکو: روسی حکومت نے امریکی میسجنگ ایپلیکیشن اٹس ایپ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکام کا موقف ہے کہ واٹس ایپ ملکی قوانین کی پابندی کرنے میں ناکام رہا ہے، اسی بنیاد پر اسے بند کیا جا رہا ہے۔
روسی حکام کے مطابق چند دن قبل ہی مخالف میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر بھی رسائی محدود کر دی گئی تھی، جس کے بعد واٹس ایپ پر پابندی کا اعلان متوقع تھا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صارفین کو مقامی میسجنگ سروس میکس پر منتقل کیا جائے گا، تاہم یہ سروس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فراہم نہیں کرتی، جس کے باعث صارفین کی پرائیویسی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق روسی حکومت کا یہ اقدام شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی بڑھانے کے لیے ایک ممکنہ طریقہ ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مقامی سروس پر منتقلی صارفین کے پیغامات کو زیادہ آسانی سے نگرانی کے لیے قابل رسائی بنا دے گی۔
دوسری جانب ناقدین نے اس اقدام کو انٹرنیٹ پر کنٹرول مضبوط کرنے اور آزادی رائے پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایپل نے صارفین کے لیے بڑی خوشخبری سنادی
ان کا کہنا ہے کہ روس میں یہ پابندیاں شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں پر سرکاری نگرانی بڑھانے کی ایک کڑی ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ واٹس ایپ اور ٹیلی گرام کی پابندی کے بعد صارفین اپنی ذاتی اور کاروباری معلومات کی حفاظت کے لیے ممکنہ طور پر دیگر متبادل ایپس کی طرف رجوع کریں گے۔





