سابق انگلش آل راؤنڈر معین علی نے پیشگوئی کی ہے کہ اس بار ورلڈ کپ کے بڑے مقابلوں بالخصوص پاک بھارت ٹاکرے میں پاکستان کا پلہ بھاری رہے گا اور گرین شرٹس پہلی بار بھارت کو پچھاڑ کر ٹرافی جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں معین علی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ماضی میں بھارت کا ریکارڈ بہتر رہا ہے لیکن وہ پہلی بار یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اس سال پاکستان کی ٹیم بھارت کو شکست دینے اور فائنل جیتنے کی پوزیشن میں ہے۔
معین علی نے پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو چند جراتمندانہ مشورے دیتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان فخر زمان، شاہین آفریدی اور نوجوان کھلاڑی خواجہ نافے کو ٹیم میں شامل کرتا ہے تو وہ ایک ناقابل شکست الیون بن سکتی ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ بابر اعظم کی جگہ فخر زمان کو موقع دینے اور وکٹ کیپنگ کی ذمہ داری خواجہ نافع کو سونپنے سے ٹیم کا توازن بہتر ہوگا اور بھارت کے خلاف دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاہین آفریدی کی موجودگی باؤلنگ اٹیک کو وہ دھار فراہم کرے گی جس کی بڑے میچوں میں ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستانی باؤلنگ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق انگلش کرکٹر نے ابرار احمد اور عثمان طارق کو پاکستان کا خفیہ ہتھیار قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی بلے بازوں نے ان دونوں اسپنرز کا زیادہ سامنا نہیں کیا ہے، اس لیے وہ بھارت کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب انہوں نے پاکستانی بلے بازوں کو خبردار کیا کہ وہ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو، فاسٹ باؤلر جسپرت بمراہ اور اسپنر کلدیپ یادو سے ہوشیار رہیں کیونکہ یہ کھلاڑی کسی بھی وقت میچ کا نقشہ پلٹ سکتے ہیں۔
ٹورنامنٹ کے مجموعی منظر نامے پر بات کرتے ہوئے معین علی نے پاکستان، بھارت، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کو سیمی فائنل کی فیورٹ ٹیمیں قرار دیا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ورلڈ کپ کا فائنل پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوگا جہاں پاکستان اپنی بہترین حکمت عملی کی بدولت فتح حاصل کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق آر پرما داسا اسٹیڈیم کی پچ اگرچہ اسپنرز کے لیے سازگار ہوتی ہے لیکن ایک اچھے مقابلے کے لیے بہترین پچ کی تیاری دونوں ٹیموں کو اپنی فطری کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرے گی۔





