اقوام متحدہ : اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کو کسی بھی صورت قبول نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کی کوششیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ امن کے عمل کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔
پاکستان سمیت 85 رکن ممالک نے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے پھیلاؤ کی سخت مذمت کی ہے۔ عاصم افتخار نے کہا کہ یہودی بستیوں کا قیام یو این چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے، اور اسرائیل کے اس اقدام کو مسترد کیا جاتا ہے جو مغربی کنارے کو ملکیت قرار دینے کی کوشش ہے۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ اسرائیلی اقدامات امن کوششوں کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ علاقے میں پائیدار امن قائم ہو۔
پاکستان مسلسل فلسطینی عوام کے حق میں کھڑا ہے اور اقوامِ متحدہ میں اس مسئلے پر مضبوط موقف اختیار کرتا آیا ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے دو ریاستی حل کے اصول پر کاربند ہے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے محکمہ اوقاف: 12 ملازمین برطرف، بڑی وجہ سامنے آ گئی
پاکستان کے موقف کے مطابق مغربی کنارے میں بستیوں کا قیام نہ صرف فلسطینی زمین پر قبضے کے مترادف ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی بھی ہے۔
عاصم افتخار نے اقوامِ متحدہ کے فورمز پر اس غیر قانونی اقدام کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔





