لاہور : ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ میں شکست کے بعد وطن واپس آنے پر پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد بٹ نے آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی بد انتظامیوں کا تفصیلی انکشاف کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عماد بٹ نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں سے کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کرائے گئے جبکہ کھانے خود پکانے پڑے اور سڑکوں پر رہنا پڑا۔ انہوں نے کہا:
صبح اُٹھ کر کچن اور برتن صاف کرنے کے بعد کھلاڑی میدان میں کیا کھیلیں گے؟ جو زیادتیاں ہم سے ہوئیں، وہ ہم جانتے ہیں۔ ہمیں کہا گیا کہ پلئیر تین وقت کا کھانا 115 ڈالر میں خود خریدیں۔
عماد بٹ نے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے بہت جھوٹ بولا اور موجودہ ہاکی مینجمنٹ کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے کوڈ آف کنڈکٹ کو نہیں مانتے اور مطالبہ کیا کہ کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا فوری نوٹس لیا جائے۔
کپتان نے کہا کہ ٹیم کو غیر ملکی کوچ کی شدید ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں کھلاڑیوں کا مورال بہتر ہو اور بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی دی جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ کھلاڑیوں پر کوئی دباؤ نہیں ہے، تاہم کہا گیا تھا کہ آپ باہر کوئی بات نہیں کریں گے ورنہ پابندی لگ جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : رمضان کا چاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا
دوسرے کھلاڑیوں نے بھی کہا کہ آسٹریلیا میں سڑکوں پر رہنا پڑا اور ٹیم کا مورال شدید متاثر ہوا۔
ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ نورالصباح نے بتایا کہ ہوٹل کی بکنگ کی گئی تھی لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن نے کینسل کرادی، اور اس کی تمام ذمہ داری ہاکی فیڈریشن پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل انکوائری وزیراعظم شہباز شریف کو بھیجی جائے گی، جو پہلے ہی بد انتظامی کا نوٹس لے چکے ہیں۔





