وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں 140 ارب روپے سے زائد کے 42 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق یہ اقدامات سابق وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق عوامی فلاح اور پائیدار ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
صحت کے شعبے کے لیے 50 ارب روپے سے زائد کے منصوبے بھی منظور کیے گئے ہیں جن میں مختلف اضلاع میں کیتھ لیبز کا قیام، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کی اپگریڈیشن اور وبائی امراض سے نمٹنے کی استعداد کار میں اضافہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ بنوں میڈیکل کالج میں طلبہ کے لیے ہاسٹلز کی تعمیر اور ضم شدہ اضلاع میں ایمرجنسی اور سیکنڈری سطح کی طبی سہولیات کی بہتری پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
زراعت اور آبپاشی کے شعبے میں بھی اہم منصوبے منظور ہوئے ہیں جن کے تحت تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار ایکڑ اراضی کو پانی کی فراہمی ممکن ہوگی اور زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
بنوں اور لکی مروت میں کینال سسٹمز اور فلڈ پروٹیکشن منصوبوں سے ایک لاکھ 13 ہزار 400 افراد مستفید ہوں گے۔
خصوصی بچوں کے لیے ڈویژنل سطح پر آٹزم سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے تاکہ بچوں کو جدید سہولیات اور تربیت فراہم کی جا سکے۔
اس کے علاوہ کھیل، بلدیات، سماجی بہبود، ایکسائز اور ٹیکسیشن کے شعبوں میں بھی ترقیاتی منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔





