پاکستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر میں سرحد پار سے ملوث ہونے کے ایک اور سنگین واقعے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر ہونے والے خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت سید احمد عرف قاری عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ بلخ سے تھا۔
خودکش حملہ آور سید احمد نہ صرف افغان شہری تھا بلکہ وہ افغان طالبان رجیم کی اسپیشل فورسز سے وابستہ رہا اور افغانستان میں باضابطہ طور پر سرکاری ذمہ داریاں بھی انجام دے چکا ہے۔
افغان طالبان سے وابستہ اس خودکش حملہ آور کی شناخت نے سرحد پار موجود دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے باہمی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ خودکش حملہ آور کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں اس کے گھر پر باقاعدہ تعزیتی اجتماع کا انعقاد بھی کیا گیاجو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ طالبان کے زیرِ سایہ دہشت گردی کو سماجی سطح پر بھی پذیرائی دی جا رہی ہے۔





