پشاور: محکمہ جنگلات خیبرپختونخوا میں 2019 سے 2026 کے دوران مبینہ طور پر 6 کروڑ روپے کی خوردبرد سامنے آئی ہے۔
محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے مطابق ڈویژنل فاریسٹ افسر سوات نے سرکاری چیک میں رقم بڑھا کر فنڈز نکلوائے، جس کے نتیجے میں مالی بدعنوانی کا پردہ فاش ہوا۔
مزید انکشاف کیا گیا کہ ملزم نے وقت کے ساتھ سرکاری ریکارڈ میں اپنی تنخواہ میں بھی اضافہ کیا اور غیر قانونی فائدہ اٹھایا۔
ذرائع کے مطابق ملزم نے مجموعی طور پر 9 کروڑ 23 لاکھ روپے کے سرکاری فنڈز اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیے، جن میں سے 93 لاکھ روپے ریکور کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروا دیے گئے ہیں۔
محکمہ خزانہ نے فوری کارروائی کے لیے محکمہ جنگلات کو ہدایت کی ہے کہ ملزم کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے اور قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
ساتھ ہی ملزم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں شامل کرنے اور باقی رقم کی فوری ریکوری کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : باجوڑ خودکش حملے میں افغان شہری کے ملوث ہونے کی تصدیق، حملہ آور افغان طالبان کی اسپیشل فورسز کا اہلکار نکلا
محکمہ خزانہ کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ اس نوعیت کی مالی بدعنوانی نہ صرف عوامی فنڈز کا نقصان ہے بلکہ محکمہ کی شفافیت اور اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اس سلسلے میں آئندہ میں مالی نگرانی کے سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔





