اسلام آباد : جرمن جونئیر اوپن سکواش چیمپئن شپ کے دوسرے راؤنڈ میں پاکستان کی علی سسٹرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے میچز میں واضح کامیابیاں حاصل کر لیں۔
پاکستان کی نمائندہ ماہ نور علی اور سحرش علی نے اپنے، اپنے حریف کھلاڑیوں کو شکست دے کر ملک کا نام روشن کیا۔ ماہ نور علی نے راؤنڈ 2 میں اٹلی کی رافیلا گوئڈونی کو تین سیٹس میں 11-4، 11-4 اور 11-7 سے زیر کیا۔
اسی طرح سحرش علی نے بھارت کی نیریا ساسترے کو بھی تین سیٹس میں 11-6، 11-2 اور 11-2 سے شکست دے کر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔
پاکستانی سسٹرز کی یہ کامیابیاں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہیں اور ملک میں سکواش کی مقبولیت کو مزید بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
سکواش ماہرین کے مطابق علی سسٹرز کی مضبوط کارکردگی اور تکنیکی مہارت انہیں مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر اہم مقام دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
جرمن جونئیر اوپن میں پاکستان کی اس شاندار کارکردگی نے شائقین اور کوچز دونوں کے دل جیت لیے ہیں اور اگلے راؤنڈز میں بھی ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا میں اسکواش کورٹ پر پاکستانی بہنوں کا راج،سحرش اور ماہ نور کا شاندار کارنامہ
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی ہونہار اسکواش پلیئرز سحرش علی اور ماہ نور علی نے امریکہ میں منعقدہ یو ایس جونیئر گولڈ اسکواش ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوری دنیا میں پاکستان کا پرچم بلند کر دیا۔
گرلز انڈر-15 کیٹیگری کے فائنل میں دونوں بہنیں ایک دوسرے کے مدمقابل تھیں۔ سحرش علی نے سنسنی خیز اور اعلیٰ معیار کے مقابلے میں ماہ نور علی کو 3-2 سے شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا، جبکہ ماہ نور علی نے رنر اپ رہ کر ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کا حق بخوبی ادا کیا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ یو ایس جونیئر گولڈ اسکواش ٹورنامنٹ کے فائنل میں دونوں حریف پاکستانی بہنیں تھیں، جسے عالمی اسکواش حلقوں میں ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔





