سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن نجات مہران میں پولیس نے ایک بڑی اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے، جس کے نتیجے میں سندھ کا سب سے نامی گرامی اور مطلوب ترین ڈاکو ثناء اللہ شر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے سب سے بڑے ڈکیت ثناء اللہ شر عرف ثنو شر سمیت اس کے 13 ساتھیوں نے بھی پولیس کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچے کے علاقے سے ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ اب پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے آپریشن بھرپور طریقے سے جاری رہے گا۔
پولیس حکام کے مطابق ثناء اللہ شر ایک انتہائی خطرناک مجرم تھا جس کے سر پر سندھ حکومت نے 1 کروڑ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ وہ سندھ اور پنجاب کے کچے کے علاقوں میں سرگرم تھا اور اس پر پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی سمیت 100 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے۔
آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ثناء اللہ شر کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے بعد اب صوبے میں اغوا برائے تاوان کے باب کا اختتام ہوگا کیونکہ اس کے دیگر ساتھیوں نے بھی اب ہتھیار پھینکنا شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ ڈاکو نہ صرف سنگین جرائم بلکہ قبائلی تنازعات میں بھی ملوث تھا اس لیے اس کی گرفتاری امن و امان کے قیام کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔





