نوشہرہ: مارشل آرٹ اور جمناسٹک میں متعدد میڈلز جیتنے والے قومی کھلاڑی رضوان پٹھان آج معاشی مشکلات کے باعث نوشہرہ کی ایک ماربل فیکٹری میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔
ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے رضوان پٹھان نے 2018 کے قومی مارشل آرٹ مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور صوبائی و مقامی سطح پر بھی کئی مقابلوں میں کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کی کارکردگی نے انہیں قومی سطح پر پہچان دی۔
لیکن آج کی زندگی کے میدان نے کھیل کے مقابلوں سے زیادہ سخت امتحان پیش کیا۔ معاشی تنگی کے باعث رضوان پٹھان اب ماربل فیکٹری میں کام کرنے پر مجبور ہیں، جہاں وہ اپنی محنت اور عزم کے ساتھ گزارا کر رہے ہیں۔
رضوان پٹھان کا کہنا ہےحالات نے راستہ ضرور مشکل بنایا، مگر منزل سے نظریں نہیں ہٹیں۔ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ مجھے سرپرستی ملے تاکہ میں عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم بلند کر سکوں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی سفیر کے بیان پر او آئی سی نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا
یہ صرف ایک کھلاڑی کی کہانی نہیں بلکہ ان بے شمار نوجوانوں کی داستان ہے جو وسائل کی کمی کے باعث اپنی صلاحیتوں کے باوجود آگے نہیں بڑھ پاتے۔
رضوان پٹھان جیسے باہمت کھلاڑی ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں سہارا دیا جائے تاکہ ان کا خواب صرف خواب نہ رہے بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز بن جائے۔





