امداد کی رقم کس کو ملے گی؟ رمضان پیکج کی فہرستوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا

امداد کی رقم کس کو ملے گی؟ رمضان پیکج کی فہرستوں پر تنازع شدت اختیار کر گیا

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے رمضان المبارک کے لیے اعلان کردہ فی خاندان 12 ہزار 500 روپے کے امدادی پیکج کو جہاں عوامی ریلیف کا اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے، وہیں اس کی تقسیم کے طریقہ کار پر سوالات بھی اٹھنے لگے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مستحق افراد کی فہرستیں روایتی سرکاری نظام کے بجائے منتخب نمائندوں اور پارٹی تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے تیار کی جا رہی ہیں، جس کے باعث شفافیت اور میرٹ کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے ہدایت کی ہے کہ رمضان پیکج کے تحت امداد حاصل کرنے والے مستحقین کا ڈیٹا ارکان قومی اسمبلی (ایم این اے) اور ارکان صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے ذریعے جمع کرایا جائے۔ ہر رکن اسمبلی کو تقریباً 500 افراد کی فہرست مرتب کر کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں جمع کروانے کا کہا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے۔ تحصیل، نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل کی سطح پر پارٹی عہدیداروں کو 200، 200 افراد کا ڈیٹا فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ ہر میجر نیبر ہڈ کونسل کے زکوٰۃ چیئرمین کو الگ سے 500 مستحق افراد کی فہرست تیار کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق موصول ہونے والی فہرستوں کی بنیاد پر ضلعی انتظامیہ جانچ پڑتال مکمل کرے گی اور رمضان کے دوران امدادی رقم مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے زمینی حقائق سے بہتر آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے ان کے ذریعے مستحق افراد کی نشاندہی زیادہ مؤثر انداز میں کی جا سکتی ہے تاکہ امداد حقیقی حقداروں تک پہنچ سکے۔

تاہم مختلف حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ امدادی پیکج کی تقسیم کو مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر یقینی بنایا جائے تاکہ کسی قسم کے سیاسی اثر و رسوخ کا تاثر ختم ہو اور ضرورت مند افراد کو بروقت ریلیف مل سکے۔

Scroll to Top